شکر کی حقیقت اور قناعت کا راستہ

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ شکر صرف تب کیا جاتا ہے جب کوئی بڑی خوشی ملے، کوئی نعمت ہاتھ آئے یا ہمارے مطالبات پورے ہو جائیں۔ ہم زبان سے تو چند الفاظ ادا کر دیتے ہیں، مگر ہمارا دل اندر سے مزید کی چاہ اور "نہ ملنے والی چیزوں" کے شکووں سے بھرا رہتا ہے۔ یہ شکر نہیں، بلکہ صرف ایک رسم ہے۔ شکر کا اصل مفہوم تو یہ ہے کہ جو کچھ ہمارے پاس موجود ہے، ہمارا دل اس کی قدر کو پہچانے اور جو نہیں ملا، اس کے ملال سے آزاد ہو جائے۔

ذرا سوچیے، اگر ہم اپنی پوری زندگی صرف ان چیزوں کو گننے میں گزار دیں جو ہمارے پاس نہیں ہیں، تو ہم کبھی خوش نہیں ہو سکتے۔ شکر دراصل ہماری نظر کا زاویہ بدل دیتا ہے۔ یہ ہمیں محرومیوں کے اندھیرے سے نکال کر موجودہ نعمتوں کے اجالے میں لے آتا ہے۔ جب ہم صبح کی روشنی، سانسوں کی روانی، اپنوں کا ساتھ اور ایک پرسکون لمحے کو بھی ایک تحفہ سمجھ کر قبول کرنے لگتے ہیں، تو اندر کا سارا خالی پن ختم ہو جاتا ہے۔ سچا شکر گزار وہ نہیں ہے جس کے پاس سب کچھ ہو، بلکہ وہ ہے جو بہت کم میں بھی دل کے اطمینان کے ساتھ جی رہا ہو۔

جب دل میں یہ احساس یقینی ہو جاتا ہے کہ ہمارا خالق ہمارے لیے جو بھی فیصلہ کرتا ہے، اس میں کوئی نہ کوئی بہتری ہوتی ہے، تو گلے شکوے خود بخود دم توڑ دیتے ہیں۔ شکر رشک اور حسد کی آگ کو ٹھنڈا کر دیتا ہے اور انسان کو دنیا کی بنائی ہوئی دوڑ سے آزاد کر کے ایک سچی پناہ گاہ فراہم کرتا ہے۔ اپنی نعمتوں کو غرور کے بجائے عاجزی کے ساتھ محسوس کرنا، اور ہر حال میں اپنے رب کے فیصلوں پر دل سے مسکرا دینا ہی روح کا اصل چین اور سچی بندگی ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

فطرت کے شاہکار: وہ عظیم ہستی کون ہے؟ (قسط 1)

فطرت کے شاہکار: وہ عظیم ہستی کون ہے؟ (قسط 5)

فطرت کے شاہکار: وہ عظیم ہستی کون ہے؟ (قسط 2)