فطرت کے شاہکار: وہ عظیم ہستی کون ہے؟ (قسط 5)
اگر ہم کتابوں کی تعریفوں کو ایک طرف رکھ دیں اور اپنے اردگرد پھیلی اس کائنات کو کھلی آنکھوں سے دیکھیں، تو ہمیں معلوم ہوگا کہ محبت کرنا تو ہم نے اصل میں فطرت سے سیکھا ہے۔ فطرت کا ہر نظارہ ہمیں بغیر کچھ بولے محبت کا سچا مطلب سکھاتا ہے۔ اس تپتے ہوئے سورج کو دیکھیے جو دن بھر خود جلتا ہے تاکہ پوری دنیا کو روشنی اور زندگی دے سکے۔ ان درختوں پر غور کیجیے جو خود چلچلاتی دھوپ کا سامنا کرتے ہیں لیکن اپنے سائے میں بیٹھنے والے کو ہمیشہ ٹھنڈک اور سکون ہی دیتے ہیں۔ یہ بادل، یہ ہوائیں اور یہ پیاسی زمین کو سیراب کرتی بارش—یہ سب فطرت کا وہ بے غرض پیار ہی تو ہیں جو ہم سے بدلے میں کچھ نہیں مانگتے۔ اس کائنات کو بنانے والے نے جب یہ سارا نظام تیار کیا، تو اس نے خود اپنے لیے بھی سب سے پہلے جس صفت کو پسند فرمایا، وہ "رحمت اور محبت" ہی ہے۔ اس کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ وہ اپنی مخلوق کی کوتاہیوں اور غلطیوں کو دیکھ کر بھی ان سے ان کا رزق، ان کی سانسیں اور ان کی زندگی کی نعمتیں نہیں چھینتا۔ کائنات کا مالک اگر چاہتا تو اس دنیا کو صرف ایک قانون کے تحت چلا سکتا تھا، لیکن اس نے اس مٹی کی دنیا میں محبت کا رنگ بھر...