"اور ہم نے پہاڑوں کو میخیں بنایا" (سورہ النبأ)


کبھی ہم نے سوچا ہے کہ یہ فلک بوس پہاڑ ہماری زمین کے سینے پر خاموش کھڑے ہمیں کیا پیغام دیتے ہیں؟ جب ہم کسی بلند و بالا پہاڑ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، تو ہمارے اندر کی ساری انا اور تکبر ایک ہی لمحے میں پگھلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ہم جتنے بھی بڑے اور طاقتور کیوں نہ ہو جائیں، ان عظیم چوٹیوں کے سامنے خود کو بہت چھوٹا اور عاجز پاتے ہیں۔ یہ احساس ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل بڑائی اور بادشاہی صرف اس ذات کی ہے جس نے ان وزنی چٹانوں کو ہماری زمین کا کیل اور میخ بنا کر کھڑا کر دیا تاکہ یہ زمین ہمیں لے کر لرزنے نہ لگے۔

پہاڑ صرف دیکھنے کی خوبصورتی نہیں، بلکہ ہمارے رب رحمٰن کی طرف سے عطا کردہ زندگی کا ایک عظیم نظام ہیں۔ یہ پہاڑ ہمارے لیے نعمتوں کا وہ خزانہ ہیں جن کے بغیر ہماری بقا ممکن نہیں۔ یہ بلند چوٹیاں بادلوں کو روک کر ہماری وادیوں میں بارش کا سبب بنتی ہیں، اور پھر اسی بارش اور برف کو اپنے سینے پر سمیٹ کر ہمارے لیے میٹھے اور شفاف پانی کے چشمے بناتی ہیں۔ یہیں سے وہ ندیاں اور دریا پھوٹتے ہیں جو میلوں دور تک ہماری زمینوں اور ہمیں زندگی بخشتے ہیں۔ صرف یہی نہیں، ان پہاڑوں کے اندر رب تعالیٰ نے قیمتی معدنیات، پتھر اور ایسی نایاب جڑی بوٹیاں چھپا رکھی ہیں جو ہماری شفا اور ہمارے روزگار کا ذریعہ بنتی ہیں۔ یہ اوپر سے جتنے سخت نظر آتے ہیں، ہمارے لیے اندر سے اتنے ہی سخی ہیں۔

حکمت کی بات یہ ہے کہ ہم پہاڑوں کی اس خاموشی، سخاوت اور ثابت قدمی کو اپنے اندر اُتار لیں۔ ہماری زندگی میں حالات کے کتنے ہی طوفان کیوں نہ آئیں، توکّل کا پہاڑ ہمارے دل میں ایسا جما ہونا چاہیے کہ کوئی بھی اندیشہ یا خوف ہمیں اپنی جگہ سے ہلا نہ سکے۔ پہاڑوں کے اس شاندار وجود اور ان کے بے شمار فائدوں کو دیکھتے ہوئے جب ہم کائنات کے مالک کی کاریگری پر غور کرتے ہیں، تو ہمارا دل اس یقین سے بھر جاتا ہے کہ جو ذات ان بھاری پہاڑوں کو سنبھالے ہوئے ہے، وہ ہماری زندگی کے ہر بوجھ کو ہلکا کرنے اور ہمارے ہر معاملے کو بہترین طریقے سے سلجھانے پر بھی قادر ہے۔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

شکر کی حقیقت اور قناعت کا راستہ

فطرت کے شاہکار: وہ عظیم ہستی کون ہے؟ (قسط 5)