پہچان کی حقیقت



کیا ہمارے پاس زیادہ سے زیادہ بینک بیلنس کا ہونا اور سوشل میڈیا پر لاکھوں فالورز کا ہونا ہی ہماری اصل پہچان ہے؟ یقیناً نہیں۔

اس دنیا کا ایک بہت خوبصورت اور سیدھا سا اصول ہے کہ یہاں کسی بھی چیز، کسی بھی انسان یا کسی بھی کام کی اپنی کوئی ذاتی برتری نہیں ہوتی، بلکہ اس کی اصل قیمت اور اہمیت صرف اس بات سے طے ہوتی ہے کہ اس کا تعلق کس سے ہے۔ اور جب کسی بھی پاکیزہ چیز کا تعلق اس کائنات کے حقیقی مالک اور خالق، اللّٰہ رب العالمین سے ہو جاتا ہے، تو وہ اس جہاں کی سب سے قیمتی اور خاص چیز بن جاتی ہے۔

ہماری زندگی کا ہر معاملہ اسی تعلق سے جڑا ہوا ہے۔ سوچیے، اللّٰہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم ماننا ہم پر فرض کیوں ہے؟ اس لیے کہ وہ ہمیں اللّٰہ رب العالمین کا حکم بتاتے ہیں۔ اسی طرح دنیا میں کتابیں تو بہت ہیں، لیکن جو روشنی اور ہدایت قرآنِ مجید سے ملتی ہے، وہ کہیں اور کیوں نہیں؟ کیونکہ وہ اللّٰہ پاک کا کلام ہے، جس کا ماننا ہمیں اللّٰہ پاک کے کامیاب بندوں میں شامل کر دیتا ہے اور اس کا انکار کرنا ہمیں ہمیشہ کی ناکامی کی طرف لے جاتا ہے۔ اسی طرح، آیت الکرسی اور سورہ اخلاص کو جو اتنی بڑی برکت حاصل ہے، اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ ان میں ہمارے رب کی توحید، اس کی بادشاہت، طاقت اور حکمرانی کا ذکر ہے۔

یاد رہے اس تعلق کا دنیا کے خاندانی "نسب" (یعنی برادری یا نسل) سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ دنیا والے تو انسان کو اس کے نام، مقام اور مرتبے سے پہچانتے ہیں لیکن اللّٰہ رب العزت کی نظر ہمارے دِلوں اور نِیتوں پر ہوتی ہے۔

یہ تعلق صرف عبادات تک ہی محدود نہیں، بلکہ ہمارے اخلاق اور روزمرہ کے معاملات کو بھی پاکیزگی عطا کرتا ہے۔ اللّٰہ کے بندوں کا خیال رکھنا، انہیں تکلیف نہ دینا، ان کی مدد کرنا اور اچھے اخلاق سے پیش آنا ہم پر اس لیے لازم ہے کیونکہ ہم سب اللّٰہ رب العالمین کے بندے ہیں، اور اللّٰہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر ظلم کو کبھی پسند نہیں فرماتا۔ جب ہم اپنے دل میں اللّٰہ پاک کا شکر گزار بندہ بننے کی تڑپ رکھتے ہیں، تو ہم حلال اور حرام کا فیصلہ بھی اسی تعلق کی وجہ سے کرتے ہیں۔ ہم حلال کو اس لیے اپناتے ہیں کیونکہ اس سے ہمارا رب راضی ہوتا ہے، اور حرام سے اس لیے بچتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے مالک کی نافرمانی ہے۔

ہماری زندگی کا مقصد یہی ہے کہ ہمارا ہر عمل، ہر سانس اور ہر نسبت اللّٰہ رب العالمین سے جُڑ جائے۔ کیونکہ زندگی کی اصل خوبصورتی اور پہچان صرف اور صرف اپنے رب کی مکمل بندگی اختیار کرنے میں ہے۔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

شکر کی حقیقت اور قناعت کا راستہ

فطرت کے شاہکار: وہ عظیم ہستی کون ہے؟ (قسط 5)