کائناتی میوزک اور مصنوعیت کا شور

ہم کتنے نادان ہیں کہ ہم نے سکون کو موبائل کی اسکرینوں اور ہیڈ فونز میں ڈھونڈنا شروع کر دیا ہے، جبکہ قدرت نے اسے ہمارے اردگرد بالکل مفت بکھیر رکھا تھا۔ جب سے ہم نے کائنات کے اس خوبصورت اور سچے میوزک کو چھوڑا ہے اور مصنوعی آلات کے شور کو اپنی زندگی بنایا، ہمارا فطرت سے رابطہ بالکل ٹوٹ چکا ہے۔ ہم نے اپنی پسند کے گانے تو پلے لسٹ میں محفوظ کر لیے، مگر یہ بھول گئے کہ ہماری روح کو اصل تسکین ان اسکرینوں اور ڈیجیٹل دھنوں سے نہیں، بلکہ اس کائنات کو بنانے والے کے قدرتی سُروں سے ملتی ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ چند افراد کی خود غرضی اور راتوں رات شہرت حاصل کرنے کے خوابوں نے ہم سے ہماری دنیا کی اصل رنگینی اور سادگی چھین لی ہے۔ میوزک کے نام پر ایک ایسا بے ہنگم سا شور تخلیق کیا گیا جس نے دھیرے دھیرے ہمیں پرسکون سُروں سے بہت دور کر دیا۔ کیا کائنات بنانے والے نے یہ سب دلنشین آوازیں ہمیں ایک خوبصورت تحفے کے طور پر نہیں دی تھیں؟ مگر ہم نے اس انمول تحفے کی قدر کرنے کے بجائے اپنے ہی بنائے ہوئے اس شور کو گلے لگا لیا۔

ہماری روح کی تسکین کے لیے قدرت نے کسی چیز کی کمی نہیں چھوڑی تھی۔ ذرا چند منٹ کے لیے رک کر، دنیا کے غوغا کو بند کر کے سنیں تو سہی! جب تیز بارش کی بوندیں زمین پر گرتی ہیں، تو وہ جو ایک دھیمی سی آواز پیدا ہوتی ہے، کیا وہ دنیا کے کسی ساز سے کم ہے؟ ہواؤں کا درختوں کے پتوں سے ٹکرا کر گزرنا، پانی کی لہروں کا ساحل سے باتیں کرنا، اور صبح سویرے پرندوں کی وہ خوبصورت اور دلنشین چہچہاہٹ—یہ کائنات کا وہ اصل اور سچا میوزک ہے جو دل کی دھڑکن کو اعتدال پر لاتا ہے۔

یہاں تک کہ شہد کی مکھیوں کی وہ مدہم سی بھنبھناہٹ اور صبح شام پرندوں کی مختلف پیاری آوازیں بھی اپنے اندر کتنا لاجواب حسن اور توازن رکھتی ہیں۔ مگر ہم ان سب سچے سُروں سے دور ہو کر مصنوعیت کے ایک ایسے جال میں پھنس چکے ہیں جہاں صرف دکھاوا ہے، سکون نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ہر سہولت ہونے کے باوجود اندر سے اتنے بے بس، اکیلے اور اداس نظر آتے ہیں۔

اصل میں یہ ساری خوبصورت دھنیں، یہ بارش کا برسنا، ہواؤں کا چلنا اور پرندوں کا چہچہانا—کچھ اور نہیں بلکہ کائنات کے ذرے ذرے کی زبان سے اپنے مالک کی تسبیح کا ترانہ ہے۔ جب ہم اس کائناتی کورس (Chorus) سے الگ ہو جاتے ہیں، تو اداسی ہمیں گھیر لیتی ہے۔ ہم جتنا اس قدرتی اور پاکیزہ میوزک کی طرف لوٹیں گے، ہمیں اتنی ہی جلدی سمجھ آئے گی کہ جب کائنات کی ہر چیز اپنے سُروں میں اپنے رب کی بندگی کر رہی ہے، تو ہماری روح بھی اصل میں اسی عظیم اور یکتا ہستی کے آگے جھکنے اور اس کی حمد بیان کرنے کے لیے تڑپ رہی تھی۔ یہی بندگی کا شعور ہی ہمارا اصل سکون ہے۔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

فطرت کے شاہکار: وہ عظیم ہستی کون ہے؟ (قسط 5)

فطرت کے شاہکار: وہ عظیم ہستی کون ہے؟ (قسط 1)

فطرت کے شاہکار: وہ عظیم ہستی کون ہے؟ (قسط 2)