جب رنگ بولتے ہیں
کائنات کے اس منظر پر نگاہ ڈالیں تو روح حیران رہ جاتی ہے کہ اگر یہ سب کچھ بالکل بے رنگ ہوتا، تو ہم کیسے جیتے؟ اگر آسمان کا یہ گہرا نیلا پن نہ ہوتا، پودوں سے وہ ہریالی چِھن جاتی، اور مٹی سے نکلنے والے پھول صرف کالے اور سفید ہوتے، تو ہماری زندگی کتنی اداس ہو جاتی! ایسا لگتا جیسے دنیا میں سانس تو ہے پر رونق غائب ہے۔ اللّٰہ پاک کا یہ کتنا بڑا لاڈ ہے اپنے بندوں پر کہ اس نے کائنات کو صرف بنایا ہی نہیں، بلکہ اسے اپنے پیارے رنگوں سے سجا کر ہمارے لیے ایک خوبصورت تحفہ بنا دیا۔
جب ہم پرندوں کے نازک پروں پر پھیلے رنگوں کو دیکھتے ہیں، یا صبح کے وقت پتے پر چمکتی شبنم میں سورج کی پہلی سنہری کرن کا عکس پاتے ہیں، تو دل گواہی دیتا ہے کہ یہ سب خود بخود نہیں ہو سکتا۔ یہ رنگ کائنات کی زبان ہیں، جن کے ذریعے ہمارا رب ہم سے بات کرتا ہے۔ ایک ننھی سی چڑیا کے پَروں میں کتنے رَنگ چھپے ہوتے ہیں، اور موسم کے بدلتے ہی درختوں کا پرانا لباس اتار کر بالکل نیا ہرا روپ دھار لینا—یہ سب اس سچے مصور کی محبت ہی تو ہے۔ وہ چاہتا تو دنیا کو بے رنگ بھی رکھ سکتا تھا، ہماری ضرورت تب بھی پوری ہو جاتی، لیکن اس نے ہمارے دیکھنے، محسوس کرنے اور خوش ہونے کے لیے اس نیچر کو اتنی مٹھاس سے بھر دیا۔
جب ہم فطرت کے ان رنگوں کو دل کی آنکھ سے دیکھتے ہیں، تو عقل حیرت میں ڈوب جاتی ہے۔ بے جان مٹی اور گدلے پانی سے اتنے رنگ برنگے اور خوشبودار گلاب کِھلانا صرف اسی ایک ذات کی شان ہے جو اپنے بندوں سے بے پناہ پیار کرتی ہے۔ کائنات کا ہر رنگ، ہر پَتّا اور ہر منظر پکار پکار کر ہمیں اپنے شفیق رب کا پتا دیتا ہے اور "دل" دنیا کے سارے دکھ بھول کر اس کے شُکر میں جھک جاتا ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں