احساسِ ذمہ داری اور دل کی دستک
ہم اکثر ذمہ داری کو ایک بہت بھاری لفظ سمجھ لیتے ہیں—جیسے کوئی بوجھ ہو جو مجبوری میں اٹھانا پڑے، کوئی نوکری کا وقت ہو یا روزمرہ کے کاموں کی کوئی لمبی لسٹ۔ لیکن اگر تھوڑا گہرائی میں اتر کر دیکھیں، تو یہ کوئی بوجھ نہیں بلکہ ہمارے دل کی وہ خوبصورت آواز ہے جو ہمیں ایک سچا اور مخلص انسان بناتی ہے۔ یہ ہماری روح کا وہ ترازو ہے جو ہمیں دوسروں کا درد محسوس کرنا سکھاتا ہے۔
کسی نے کیا خوبصورت بات کہی تھی کہ یہاں ہمارا ہر رشتہ، ہمارے پاس موجود ہر اختیار، یہاں تک کہ ہمارے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ بھی ایک امانت ہیں۔ جب ہم کوئی کام محض ایک ڈیوٹی سمجھ کر، بے دلی سے کرتے ہیں، تو اس میں سے وہ رونق اور برکت چلی جاتی ہے۔ لیکن جب ہمارے دل میں یہ احساس جاگتا ہے کہ ہمارے دائرے میں موجود لوگوں کی آسانیاں ہم سے جڑی ہیں، تو وہی عام سا کام ایک خوبصورت موڑ لے لیتا ہے۔
آج کی اس بھاگتی دوڑتی دنیا میں، جہاں ہر شخص صرف اپنے بارے میں سوچ رہا ہے، وہاں کسی کے کام آنا اور اپنے حصے کا کام پوری دیانتداری سے نبھانا ہی سب سے بڑا سکون ہے۔ یہ احساس ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم دوسروں کے راستے کے پتھر نہ بنیں، بلکہ ان کے لیے آسانیاں بانٹیں۔ چاہے وہ کسی کو دیا ہوا چھوٹا سا وعدہ پورا کرنا ہو، اپنے فرائض مخلص ہو کر پورے کرنا ہو، یا خاموشی سے کسی کی مدد کرنا ہو۔ جب ہم اس سچے احساس کے ساتھ جینا شروع کرتے ہیں، تو دل ہر قسم کے خوف اور بے چینی سے آزاد ہو جاتا ہے۔ اصل میں، اپنی ذمہ داریوں کو دیانتداری سے نبھاتے ہوئے اللہ پاک کی مخلوق کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہی ہماری روح کا اصل سکون اور سچی بندگی ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں