محبت کا وہ پیارا سا حصار


کبھی غور کیا ہے کہ دنیا کی ہر رونق کو سمیٹ کر بھی، ہمارے اندر ایک عجیب سا خالی پن کیوں رہ جاتا ہے؟ ہم چاہے کتنے ہی مادی سُکھ پا لیں، محبتوں اور رشتوں کے میلے جمع کر لیں، پر دل کو سچا قرار نہیں ملتا۔ جانتے ہیں کیوں؟ کیونکہ یہ دل کسی بھی عارضی سہارے کے لیے بنا ہی نہیں ہے۔ اس پورے دل پر، اس کی ہر دھڑکن پر، صرف اور صرف اللّٰہ پاک کی ذات کا حق ہے اور اسی کی حکومت جچتی ہے۔ اللّٰہ پاک کی محبت ہمارے لیے اتنی ضروری ہے کہ اس کے بغیر دنیا جہاں کی دولت بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ یہ دولت مل جائے تو ہم کائنات کے سب سے امیر ترین بن جاتے ہیں، اور اگر یہ نہ ہو تو دنیا کے سارے خزانے بھی دل کا خالی پَن دور نہیں کر سکتے۔

اور ہمارے رب کی رحمت اور اس کے عفو و درگزر کا معاملہ تو سب سے خوبصورت ہے۔ ہم سے کتنی ہی خطائیں ہو جائیں، ہم کتنی ہی بار بھٹک جائیں، لیکن جیسے ہی ہم ایک اداس دل اور شرمندہ آنسو کے ساتھ اس کی طرف لوٹتے ہیں، وہ ہمیں ایسے اپنی رحمت کے حصار میں لے لیتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ تھا۔ وہ تو ایسا مہربان رب ہے جو ہماری سب کمزوریوں کو جان کر بھی ہم سے منہ نہیں موڑتا، وہ ہمارے عیبوں پر خوبصورت پردے بھی ڈالتا ہے اور ہمیں اپنی پناہ میں بھی رکھتا ہے۔ اس کی رحمت کا سایہ اتنا گھنا ہے کہ بندہ جتنا بھی تھکا ہارا ہو، وہاں پہنچ کر سکھ پا ہی لیتا ہے۔

جب یہ پورا دل اس پاکیزہ محبت کے قبضے میں آ جاتا ہے، تو روح کو یہ گہرا شعور ملتا ہے کہ کائنات کے سبھی سہارے فانی ہیں اور سب رشتے ایک دن چُھوٹ جانے والے ہیں۔ اس حقیقت کو جاننے کے بعد دل دنیا کی آسائشوں سے بے نیاز ہو کر اس خوبصورت یقین کو پا لیتا ہے کہ اس جہاں کا حقیقی وارث، حقیقی مالک، ہمارا رب ہی ہے، جو اپنے بندوں کے لیے سب سے بہترین وارث ہے۔ وہ کبھی اپنے بندے کو اکیلا نہیں چھوڑتا، اور ہمارے لیے بس یہی کامل یقین کافی ہو جاتا ہے کہ وہ ہم سے راضی ہے اور اس کا شفیق قرب ہر لمحہ ہمارے ساتھ ہے۔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

شکر کی حقیقت اور قناعت کا راستہ

فطرت کے شاہکار: وہ عظیم ہستی کون ہے؟ (قسط 5)