جب کسی کی مجبوری ہمارا امتحان بنتی ہے

زندگی کے سفر میں کبھی نہ کبھی ہمارا واسطہ ایسے لوگوں سے ضرور پڑتا ہے جو کسی موڑ پر خود کو اکیلا، کمزور یا مجبور محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں دنیا کا ایک عام طریقہ تو یہ ہے کہ لوگ دوسروں کی اس کمزوری کو اپنی طاقت دکھانے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ لیکن بندگی کا راستہ ہمیں ایک بالکل الگ اور خوبصورت سوچ دیتا ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ جب ہمارے سامنے کوئی مجبور انسان آتا ہے، تو وہ لمحہ اس کی آزمائش بعد میں ہوتا ہے، پہلے ہماری عاجزی کا امتحان ہوتا ہے۔ وہ وقت ہمیں یہ یاد دلانے کے لیے آتا ہے کہ آج ہمیں جو طاقت، سمجھ یا وسائل ملے ہیں، وہ ہمارا اپنا کمال نہیں بلکہ صرف ہمارے رب کا کرم ہے۔ اس احساس کے آتے ہی انسان کا دل شکر گزاری سے بھر جاتا ہے اور غرور کی جگہ عاجزی لے لیتی ہے۔

حقیقی کامیابی یہ نہیں ہے کہ ہم کسی کو کمزور سمجھ کر اس پر کوئی احسان کریں، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم خود کو ایک مخلص ہمسفر کی طرح اس کے برابر لائیں اور اس کا حوصلہ بڑھانے میں اپنا حصہ ڈالیں۔ جب ہم نہایت خاموشی اور محبت سے کسی کے کام آتے ہیں، تو ہم صرف ایک انسان کا دل نہیں جیت رہے ہوتے، بلکہ اپنے رب کی نظر میں سرخرو ہو رہے ہوتے ہیں۔

یہ زندگی ایک دوسرے پر اپنی طاقت جمانے کا نام نہیں، بلکہ ایک دوسرے کا مان بن کر آگے بڑھنے کا نام ہے۔ جب ہم جھک کر، کسی کا دل دکھائے بغیر اس کے کام آتے ہیں، تو یہ نیکی ایک ایسا خوبصورت وسیلہ بن جاتی ہے جو روح کو اپنے رب کے اور قریب کر دیتی ہے۔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

شکر کی حقیقت اور قناعت کا راستہ

فطرت کے شاہکار: وہ عظیم ہستی کون ہے؟ (قسط 5)