لفظوں کی طاقت اور دھیما لہجہ
کہتے ہیں کہ کمان سے نکلا ہوا تیر اور زبان سے نکلا ہوا لفظ کبھی واپس نہیں آتا۔ ہماری گفتگو، ہمارا اندازِ بیاں اور ہمارا لہجہ وہ اوزار ہیں جو کسی کے دل میں ہمارے لیے محبت کا محل بھی کھڑا کر سکتے ہیں اور سیکنڈوں میں اس محل کو زمین بوس بھی کر سکتے ہیں۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ رشتوں میں نیت خراب نہیں ہوتی، لیکن لہجے کی تلخی سب کچھ برباد کر دیتی ہے۔ جب ہم غصے یا انا میں آ کر ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جو سامنے والے کی عزتِ نفس کو مجروح کریں، تو وہ زخم وقت گزرنے کے باوجود بھی نہیں بھرتے۔ رشتوں کی اصلاح کے لیے سب سے پہلے اپنے لہجے کی اصلاح ضروری ہے۔
ایک با اخلاق اور مخلص انسان کا انداز کیسا ہونا چاہیے؟
دھیما اور نرم لہجہ: جب بات نرمی سے کی جائے، تو کڑوی بات بھی اثر کر جاتی ہے۔ دھیما لہجہ سامنے والے کے غصے کو بھی ٹھنڈا کر دیتا ہے۔
الفاظ کا درست انتخاب: بولنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ اگر یہی الفاظ کوئی آپ کے لیے استعمال کرے، تو آپ کو کیسا لگے گا؟
اپنے رشتوں میں محبت کا درس دینے کے لیے ضروری ہے کہ ہماری زبان سے نکلنے والا ہر لفظ محبت اور احترام کا سفیر ہو۔ یاد رکھیں، اچھے الفاظ کا صدقہ رشتوں کو ہمیشہ تروتازہ رکھتا ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں