ماضی کا اندھیرا، توبہ کا نور

توبہ کی اپنی ہی ایک خوبصورت کیمیا ہوتی ہے، جہاں ہمارے رب کا قانون دنیا کے بنائے ہوئے تمام اصولوں سے بالکل الگ نظر آتا ہے۔ دنیا کا تو سیدھا سا دستور ہے کہ جو وقت ایک بار ہاتھ سے نکل جائے وہ کبھی واپس نہیں آتا، اور جو نقصان ہو جائے اس کا ازالہ اتنی آسانی سے نہیں ہوتا۔ لیکن ہمارے خالق کا قانونِ رحمت اس سے کہیں بلند ہے۔ وہ صرف گناہوں کا بوجھ ہی ختم نہیں کرتا، بلکہ وہ غفلت کے برسوں کو بھی اپنی بے پناہ شفقت سے نیکیوں میں بدل دیتا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے سورہ الفرقان میں ارشاد ہوتا ہے کہ جو توبہ کرے، ایمان لائے اور نیک عمل کرے، تو اللّٰہ ایسے لوگوں کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔ اگر ہم اس پر گہرائی سے غور کریں تو دل حیرت سے بھر جاتا ہے کہ جو سال غفلت میں گزرے، وہ ضائع نہیں ہوئے، بلکہ ندامت کے چند آنسوؤں کی بدولت وہ ماضی کے اندھیرے اب اجر کا ایک عظیم ذخیرہ بن چکے ہیں۔

درحقیقت ماضی ایک قبرستان کی طرح ہے، جہاں بار بار جانے سے صرف حسرت اور اداسی ہی ہاتھ آتی ہے۔ جب بھی ماضی کا کوئی پرانا خیال دل کو بوجھل کرنے لگے، تو فوراً دل سے "اَلحمدُلِلّٰہ" کہنا چاہیے کہ اس نے ہمیں ان اندھیروں سے نکال کر اپنے قرب کے لیے چُن لیا ہے۔ یہ خاص فضل اور انتخاب ہی اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ وہ ہم سے ناراض نہیں، بلکہ ہمیں اپنا بنانا چاہتا ہے۔ اور جب ہماری زندگی کا ہر ایک پل اللّٰہ پاک کی یاد اور اس کی محبت میں گزرنے لگے، تو ہمارا دل پکار اٹھتا ہے کہ اس ربِ غفور کے دامن میں پناہ مل جانا ہی زندگی کا اصل حاصل ہے۔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

شکر کی حقیقت اور قناعت کا راستہ

فطرت کے شاہکار: وہ عظیم ہستی کون ہے؟ (قسط 5)