درگزر کرنا اور خاموشیاں سمجھنا

 دنیا کا کوئی بھی انسان پرفیکٹ (کامل) نہیں ہے۔ ہم سب غلطیاں کرتے ہیں، ہم سب کے مزاج میں خامیاں ہوتی ہیں۔ ایسے میں کسی بھی رشتے کو طویل عرصے تک نبھانے کے لیے جس سب سے بڑی صفت کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ہے درگزر کرنا (معاف کرنا)۔

اخلاص کا اصل امتحان تب نہیں ہوتا جب سب کچھ اچھا چل رہا ہو، بلکہ تب ہوتا ہے جب سامنے والے سے کوئی غلطی ہو جائے یا وہ آپ کی امیدوں پر پورا نہ اتر سکے۔ اگر ہم ہر چھوٹی بات پر گرہیں باندھنا شروع کر دیں، تو دلوں میں دوریاں اتنی بڑھ جاتی ہیں کہ پھر چاہ کر بھی فاصلے مٹائے نہیں جا سکتے۔

رشتوں میں گہرائی لانے کے لیے دو چیزیں بہت اہم ہیں:

غلطیوں کو نظر انداز کرنا: ہر بات پر بحث کرنے کے بجائے کچھ باتوں کو مسکرا کر درگزر کر دینا رشتے کو مضبوط بناتا ہے۔

خاموشی کو سمجھنا: کبھی کبھی انسان لفظوں میں اپنی پریشانی بیان نہیں کر پاتا۔ ایک مخلص ساتھی وہ ہوتا ہے جو اپنے عزیز کی آنکھوں کی اداسی اور اس کی خاموشی کو پڑھ لے، اور بنا مانگے اس کا سہارا بنے۔

رشتوں کو جوڑ کر رکھنا ایک مسلسل محنت کا نام ہے، اور اس محنت کا بہترین صلہ وہ سکون ہے جو ہمیں اپنے پیاروں کے ساتھ رہ کر ملتا ہے۔ آئیے درگزر کرنا سیکھیں اور اپنے دلوں کو صاف رکھیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

فطرت کے شاہکار: وہ عظیم ہستی کون ہے؟ (قسط 1)

فطرت کے شاہکار: وہ عظیم ہستی کون ہے؟ (قسط 2)

فطرت کے شاہکار: وہ عظیم ہستی کون ہے؟ (قسط 5)