اسمِ ذات اللّٰہ: بندگی اور محبت کا اصل محور
کائنات کی ہر تخلیق اپنے وجود کے لیے کسی نہ کسی سبب کی محتاج ہے، لیکن ان سب کا خالق وہ ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، اور اس پاک ذات کا سب سے خاص اور جامع نام اللّٰہ ہے۔ لفظ اللّٰہ کسی صفت سے نہیں بنا، بلکہ یہ اس کا ذاتی نام ہے جو صرف اور صرف اسی کے لیے مخصوص ہے۔ دنیا کے تمام صفاتی نام جیسے رحیم، رازق یا غفور کسی نہ کسی خاص صفت کو ظاہر کرتے ہیں، لیکن لفظ اللّٰہ وہ عظیم نام ہے جس میں کائنات کو سنبھالنے، دلوں کو تھامنے اور مخلوق پر کرم کرنے والی تمام طاقتیں اور صفات بیک وقت سمٹ آتی ہیں۔ ہمارے رب کا یہ سچا اور دلوں میں امید جگانے والا کلام تو دیکھیے کہ بھلا کون ہے جو بے قرار کی پکار سنتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے اور اس کی تکلیف دور کرتا ہے؟ کیا اللّٰہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ بھی ہے (سورہ النمل: 62)۔
علماء اور لغت کے ماہرین فرماتے ہیں کہ لفظ اللّٰہ کا ایک گہرا مفہوم یہ ہے کہ وہ ذات جس کی محبت میں عقلیں حیران رہ جائیں اور جس کی بندگی کے لیے روح ہر لمحہ تڑپتی رہے۔ جب ایک بندہ چاروں طرف سے مایوس ہو کر، اپنی ساری تدبیریں ہار کر، ایک بے قرار اور بے بس حالت میں ہوتا ہے، تب وہ صرف اللّٰہ ہی کی ذات ہے جو اس کی خاموش تڑپ کو پکار بننے سے پہلے ہی سن لیتی اور تکلیف کو راحت میں بدل دیتی ہے۔ وہ ذات جو عرشِ عظیم پر مستوی ہو کر بھی ہر لمحہ ہمارے دل کی حالت سے باخبر رہتی ہے، اس نے ہمیں یہ یقین دلایا ہے کہ کائنات کا پورا نظام اسی کے ہاتھ میں ہے اور اس کے سوا کوئی دوسرا الٰہ نہیں جو ہماری قسمتوں کا مالک ہو۔
نبی کریم ﷺ نے اللّٰہ پاک کی اس توحید اور عظمت کو دلوں میں بٹھانے کے لیے ہمیں ایمان کی بنیادی حقیقت سکھائی، اور یہ واضح فرمایا کہ جس نے سچے دل سے لا الہ الا اللہ کہہ دیا، اس نے دنیا اور آخرت کی اصل کامیابی کو پا لیا۔ جب ہم اپنے سجدوں میں اور اپنی خاموش تنہائیوں میں کہتے ہیں یا اللّٰہ، تو روح کو یہ کامل یقین حاصل ہوتا ہے کہ اب کسی اور کے پاس جانے کی، یا کسی عارضی اور مادی سہارے کے آگے جھکنے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی، کیونکہ سب سے بڑی طاقت ہمارے ساتھ ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ اللّٰہ پاک کے اس نامِ ذات کی برکت ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائے، تو ہمیں اپنے اندر کچھ مخلصانہ تبدیلیاں لانی ہوں گی۔ سب سے پہلا عمل یہ ہے کہ ہم اپنے دل کو اللّٰہ پاک کے سوا ہر مادی اور دنیاوی تمنا کے خوف سے پاک کر دیں، کیونکہ جب دل میں اللّٰہ کی محبت اور اس کا تقویٰ آ جاتا ہے تو دنیا کے عارضی فائدے یا نقصانات انسان کو ڈگمگا نہیں سکتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی زبان پر اللّٰہ کے ذکر کی مٹھاس کو جاری رکھنا ہوگا، اور مفسرین کی بتائی ہوئی اس خوبصورت عادت کو اپنانا ہوگا کہ زندگی کے ہر چھوٹے بڑے کام کی شروعات میں اللّٰہ کا نام لے کر برکت شامل کریں۔
ہمیں اپنے معمولات میں وہ پیاری قرآنی دعا بھی شامل کرنی چاہیے جس میں سکھایا گیا ہے کہ اللّٰہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، اسی پر میرا بھروسہ ہے اور وہی عرشِ عظیم کا مالک ہے (سورہ التوبہ: 129)۔ جب ہم اللّٰہ پاک کی اس توحید کو گہرائی سے محسوس کر لیتے ہیں، تو ہمارے اندر سے غرور، تکبر اور دوسروں پر انحصار کرنے کی عادت بالکل ختم ہو جاتی ہے۔ ہم اپنے اردگرد کی مخلوق کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے صرف اپنے سچے مالک کے سامنے جھکنے لگتے ہیں۔ یوں، اللّٰہ پاک کے اس نام کا اثر ہماری زندگی کو ایک انوکھا وقار اور اطمینان بخش دیتا ہے اور ہم اسی غنی رب کے حکم اور اس کی رضا کے مطابق بندگی کا حق ادا کرتے ہوئے اس کے مخلص بندوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں