اَلْمُؤْمِنُ: دلوں کو سکون اور امن دینے والی ذات
اللّٰہ پاک کا نام اَلْمُؤْمِنُ ایک نہایت ہی خوبصورت اور صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے، جس کے بنیادی طور پر دو گہرے معنی ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ اپنے سچے بندوں اور پیغمبروں کے ایمان کی تصدیق فرماتا ہے اور قیامت کے دن ان کے اجر کا ضامن ہے۔ دوسرا اور سب سے پیارا معنی "امن و امان دینے والا" ہے، یعنی وہ ذات جو اپنے بندوں کو دنیا کی پریشانیوں اور آخرت کے ہر خوف سے پناہ دیتی ہے۔ جب ہمارا دل کسی بات پر گھبراتا یا بے چین ہوتا ہے، تو اللّٰہ کے اس نام پر یقین ہمیں ایک ایسا سکون فراہم کرتا ہے جو کہیں اور نہیں مل سکتا، کیونکہ کائنات کی سب سے بڑی اور حقیقی طاقت صرف اسی کے پاس ہے۔
قرآنِ مجید میں اس نام کا ذکر سورہ الحشر کی آیت 23 میں کچھ اس طرح آیا ہے کہ وہی اللّٰہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی بادشاہ ہے، وہی پاک ہے، وہی سراسر سلامتی ہے اور وہی امن دینے والا ہے۔ یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کائنات میں اگر کہیں حقیقی امن اور تحفظ ہے، تو وہ صرف اللّٰہ کی ذات سے مل سکتا ہے، وہی ہے جو اپنی تمام مخلوقات کی نگرانی اور حفاظت فرما رہا ہے۔
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے بہترین مؤمن کی پہچان یہ بتائی ہے کہ وہ ایسا ہو جس سے لوگ اپنی جان اور مال کے بارے میں پرامن اور مطمئن ہو جائیں، اور مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں (جامع ترمذی)۔ اس فرمان سے ہمیں یہ سمجھ آتی ہے کہ اللّٰہ پاک نے اپنے اس نام "المؤمن" کی جھلک اپنے بندوں میں بھی دیکھنا چاہی ہے، تاکہ ایک سچا مومن بن کر ہم اپنے معاشرے کے لیے سراپا امن اور سلامتی کا باعث بن سکیں۔
جب ہم سچے دل سے اللّٰہ کو "المؤمن" مان لیتے ہیں، تو ہمارے دل سے مخلوق کا ہر ڈر اور خوف نکل جاتا ہے۔ ہمیں یقین ہو جاتا ہے کہ جب امن دینے والی ذات ہمارے ساتھ ہے، تو ہمیں گھبرانے کی کیا ضرورت ہے؟ بس یہی یقین ہمیں دوسروں کے لیے بھی امن کا سفیر بنا دیتا ہے۔ یہ نام ہمیں سکھاتا ہے کہ اللّٰہ کی پناہ میں رہنے والا بندہ، نہ صرف خود پرسکون رہتا ہے بلکہ اس کے وجود سے دوسرے لوگ بھی خود کو محفوظ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ یہ اللّٰہ کا کرم ہی ہے کہ وہ ہمیں اپنا بندہ بنا کر، اپنے ناموں کی برکت سے ہماری زندگیوں کو بھی امن کا گہوارہ بنانا چاہتا ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں