فطرت کے شاہکار: وہ عظیم ہستی کون ہے؟ (قسط 2)

 ہم جب بھی کسی باغ یا کھیت سے گزرتے ہیں، تو ہمیں ہر طرف پودے اور درخت نظر آتے ہیں۔ یہ بے زبان مخلوق کتنی خاموشی سے ہمارے کام آ رہی ہے، اگر ہم اس پر غور کریں تو ہمارا دل شکر گزاری سے بھر جائے گا۔

ایک ننھے سے بیج سے لے کر پھل دینے والے درخت تک، قدرت کس طرح ان کی رہنمائی کرتی ہے؟

اندھیرے میں راستہ ملنا: مٹی کے گھپ اندھیرے میں دبے ہوئے بیج کو پتا ہوتا ہے کہ اسے اوپر روشنی کی طرف جانا ہے۔ وہ بغیر کسی آنکھ کے، مٹی کو چیرتا ہوا بالکل سیدھا اوپر نکلتا ہے، اور اس کی جڑیں پانی کی تلاش میں نیچے گہرائی کی طرف بڑھتی ہیں۔ اس نازک سے بیج کو یہ راستہ کس نے دکھایا؟

خاموشی سے خدمت کرنا: پودے زمین سے کڑوی مٹی اور نمکین پانی لیتے ہیں، لیکن بدلے میں ہمیں کیا دیتے ہیں؟ میٹھے اور رسیلے پھل، خوبصورت پھول، اور سب سے بڑھ کر وہ آکسیجن (سانس) جو ہمیں زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ یہ پودے خود دھوپ میں جلتے ہیں، مگر ہمیں ٹھنڈی چھاؤں دیتے ہیں۔

ہر چیز کا ذائقہ الگ: ایک ہی مٹی ہے اور ایک ہی پانی، لیکن اسی پانی سے آم کا میٹھا رس بھی بنتا ہے، لیموں کا کھٹا ذائقہ بھی، اور مرچ کا تیکھا پن بھی۔ ان بے زبان پودوں کو یہ الگ الگ ذائقے اور خوشبوئیں تیار کرنا کس نے سکھایا؟

یہ پودے بول نہیں سکتے، لیکن اپنی زندگی سے ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ کوئی ہے جو کائنات کے اس پورے نظام کو چلا رہا ہے۔

آئیں مل کر اپنے دل سے ایک چھوٹا سا سوال پوچھیں:

مٹی کے اندھیرے میں بیج کی رہنمائی کرنے والا، اور اس کے ذریعے ہماری زندگی کا سامان کرنے والا کون ہے؟ وہ عظیم اور شفیق ہستی کون ہے جس نے ان بے زبان پودوں کو ہمارے لیے رحمت بنا دیا؟

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

فطرت کے شاہکار: وہ عظیم ہستی کون ہے؟ (قسط 1)

فطرت کے شاہکار: وہ عظیم ہستی کون ہے؟ (قسط 5)