خوف سے آزاد دل
خوش نصیب ہیں ہم میں سے وہ سب جنہوں نے اپنے دل کو ہر خوف سے آزاد کرنا سیکھ لیا ہے۔ ہم اپنے دل کو دنیا کے ان گنت اندیشوں سے کیسے آزاد کریں؟ کبھی مستقبل کی فکر ہمیں گھیر لیتی ہے، کبھی وسائل کی کمی کا وہم ستاتا ہے، اور کبھی یہ احساس اندر سے کمزور کر دیتا ہے کہ "اگر حالات بدل گئے تو کیا ہوگا؟" اصل مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جہاں ہم انجانے میں کسی انسان یا عارضی سہارے کو اپنے نفع اور نقصان کا مالک سمجھ بیٹھتے ہیں۔ جب دل میں یہ کمزوری گھر کر جائے، تو آگے بڑھنے کا حوصلہ آہستہ آہستہ کم ہونے لگتا ہے اور دل کا اطمینان چھن جاتا ہے۔
اصل آگہی یہ ہے کہ ہم اس وہم کو پہچانیں اور اپنے یقین سے اس کی زنجیروں کو کاٹ دیں۔ خوف سے آزاد دل ایک پُرسکون اور گہرے سمندر کی طرح ہوتا ہے، جس کی سطح پر اگر کبھی حالات کا طوفان آ بھی جائے، تو اس کی گہرائی ہمیشہ پُرامن رہتی ہے۔ ایسا دل ماضی کے پچھتاووں اور مستقبل کے اندیشوں کو چھوڑ کر صرف "آج" کے خوبصورت لمحے میں جیتا ہے۔ وہاں خود کو ہر وقت بچانے کی فکر نہیں ہوتی، اسی لیے وہ بغیر کسی شرط کے مخلصانہ محبت بانٹتا ہے، کیونکہ اس کا اپنا پیالہ رب کے یقین سے لبریز ہوتا ہے۔
ہماری اصل طاقت کسی دنیاوی سہارے میں نہیں، بلکہ اس خاموش یقین میں ہے کہ کوئی بھی مشکل ہمارے خالق رحمٰن کی رحمت سے بڑی نہیں ہو سکتی۔ چیلنجز زندگی میں ضرور آتے ہیں، مگر جب دل اس بات پر راضی ہو جائے کہ نفع اور نقصان کی مالک صرف اور صرف اللّٰہ سبحانہُ وتعالیٰ کی بابرکت ذات ہے، تو دنیا کی کسی طاقت کا ڈر ہم پر اثر نہیں کر پاتا اور زندگی کا سارا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔ جب بندہ ہر معاملے میں اپنے خالق پر توکل کر لیتا ہے، تو وہ ہر خوف سے آزاد ہو کر رب العالمین کی پناہ میں آ جاتا ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں