نیت کا نُور اور دل کا سُکون
ہم اکثر اپنی زندگی میں اس بات پر بہت وقت برباد کر دیتے ہیں کہ لوگ ہمارے بارے میں کیا سوچیں گے، ہمارا کام باہر سے کتنا چمکدار نظر آئے گا اور دنیا ہمیں کس نام سے پکارے گی۔ ہم اپنے عمل کو تو سجا لیتے ہیں، مگر اس کے پیچھے چھپی اس چھوٹی سی "نیت" کو سنوارنا بھول جاتے ہیں جو اس عمل کی روح ہوتی ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ کائنات کا مالک ہمارے چہروں اور ہماری ظاہری کامیابیوں کو نہیں دیکھتا، وہ تو سیدھا ہمارے دل کے اس خفیہ کونے پر نظر رکھتا ہے جہاں نیت جنم لیتی ہے۔
ذرا سوچیے، نیت کیا ہے؟ یہ وہ پوشیدہ جادو ہے جو کسی عام سے، چھوٹے سے کام کو بھی بندگی کا درجہ دے دیتا ہے۔ جب آپ کسی پیاسے پرندے کے لیے پانی کا پیالہ چھت پر رکھتی ہیں، تو وہ صرف پانی کا ایک برتن نہیں ہوتا، اس کے پیچھے چھپی آپ کی وہ بے غرض محبت اور رب کو راضی کرنے کی نیت اسے ایک عظیم عبادت بنا دیتی ہے۔ اور دوسری طرف، اگر نیت میں صرف دنیا کو دکھانا، واہ واہ سمیٹنا یا اپنی انا کو بڑا کرنا ہو، تو پہاڑ جتنا بڑا کام بھی اندر سے کھوکھلا اور بے وزن ہو جاتا ہے۔
آج ہم سب اندر سے اتنے تھکے ہوئے اور بے چین کیوں ہیں؟ کیونکہ ہم نے اپنے عملوں کو دنیا کی ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے۔ ہم تعریفوں کے محتاج ہو گئے ہیں۔ سچا سکون تو تب ملتا ہے جب انسان اپنے دل کو دنیا کی ہر توقع سے آزاد کر کے، اپنے عمل کا رخ صرف اور صرف اس ایک عظیم ہستی کی طرف موڑ دے۔ جب نیت خالص ہو جاتی ہے، تو انسان کے اندر کا سارا بوجھ اتر جاتا ہے، اسے پھر اس بات کا ڈر نہیں رہتا کہ کسی نے اس کی قدر کی یا نہیں۔ وہ جانتا ہے کہ جس کے لیے اس نے دل سے نیت کی تھی، وہ اس کی دھڑکنوں تک سے واقف ہے۔ یہی خالص نیت ہی ہماری روح کا اصل نور ہے اور یہی بندگی کی شروعات ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں