شہ رَگ سے بھی زیادہ قریب
کبھی سوچا ہے کہ اللّٰہ رب العالمین کی محبت کا معیار کیا ہے؟ وہ خالقِ کائنات، جو تمام حدوں سے پاک ہے اور جس کی ذاتِ مبارکہ عرشِ عظیم پر مستوی ہے، اس کی بادشاہت اور جلال کی کوئی انتہا نہیں۔ لیکن اس عظمت و کبریائی کے باوجود وہ اپنے بندوں سے کسی دوری پر نہیں۔ وہ تو قرآنِ مجید میں اپنی سب سے خوبصورت اور دلنشین سچائی کا اعلان فرماتا ہے:
وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ
"اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔" (سورہ ق: 16)
اس ایک آیت میں محبت اور اپنائیت کا ایک ایسا سمندر چھپا ہے جو روح کو سرشار کر دیتا ہے۔ شہ رگ تو ہماری حیات کا مرکز ہے، ہماری ہر سانس کے آنے اور جانے کا راستہ ہے—اور ہمارا غفور الرحیم رب فرماتا ہے کہ وہ اس سے بھی زیادہ ہمارے پاس ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جب ہماری آنکھ سے کوئی آنسو ابھی ڈھلکا بھی نہیں ہوتا، وہ اس سے واقف ہوتا ہے۔ جب ہمارے دل میں محبت، خوف یا شکر کا کوئی لطیف سا احساس انگڑائی لیتا ہے، تو وہ اس دھڑکن کو ہم سے پہلے سن رہا ہوتا ہے۔
وہ اللّٰہ جو ستار العیوب ہے، ہماری تمام خطاؤں، خامیوں اور کمزوریوں کو جانتا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ ہم سے دور نہیں ہوتا۔ وہ ہر سانس کے ساتھ ہمیں زندگی بخشتا ہے، ہماری پکار کا منتظر رہتا ہے اور اپنی رحمت کے سائے میں ہمیں تھامے رکھتا ہے۔ یہ اس کی بے غرض اور بے انتہا محبت ہی تو ہے کہ وہ شہ رگ سے بھی زیادہ قریب رہ کر ہماری کائنات کو سنبھالتا ہے۔
جب ہماری روح کو اس لازوال، سچی اور پاکیزہ قربت کا سچا شعور حاصل ہو جاتا ہے، تو دل کے اندر ایک بے ساختہ ابدی سکون اور نور اتر آتا ہے۔ پھر بندگی کوئی بوجھ یا رسم نہیں رہتی، بلکہ اپنے اس ودود اور رحیم رب سے گفتگو کا ایک خوبصورت ذریعہ بن جاتی ہے، جو ہر لمحہ ہمارے ساتھ ہے، ہماری ہر سانس کا نگہبان ہے، اور جس کا قرب ہی ہماری روح کی اصل معراج ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں