فطرت کے شاہکار: وہ عظیم ہستی کون ہے؟ (قسط 1)

 ہم اکثر اپنی روزمرہ کی مصروفیات میں اتنے گم ہو جاتے ہیں کہ اپنے اردگرد بکھرے حسن اور معجزوں پر غور ہی نہیں کر پاتے۔ اگر ہم ذرا دیر کو ٹھہریں، خاموشی سے اپنے ماحول کو دیکھیں، تو ہر چھوٹی سی مخلوق ہمیں اپنے خالق کا پتہ دیتی نظر آئے گی۔

آئیں آج ایک ایسی ننھی سی مخلوق کی بات کرتے ہیں جس کے گنگنانے کی آواز ہم اکثر سنتے ہیں—یعنی شہد کی مکھی۔

اگر ہم اس کے کام کرنے کے انداز کو دیکھیں، تو عقل دنگ رہ جاتی ہے:

ایک انوکھا گھر: جب یہ ننھی سی مکھی اپنے رہنے کے لیے چھتا بناتی ہے، تو اس کا ہر خانہ بالکل پرفیکٹ "چھ کونوں" (Hexagon) والا ہوتا ہے۔ نہ کوئی خانہ بڑا، نہ کوئی چھوٹا، نہ کوئی ٹیڑھا۔ سائنس کہتی ہے کہ چھ کونوں کی یہ شکل کم سے کم جگہ میں سب سے زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔ اب سوچیے، اسے یہ جومیٹری اور پیمائش کس نے سکھائی؟

بغیر نقشے کا سفر: یہ روزانہ اپنے گھر سے نکلتی ہے، میلوں دور تک باغوں اور پھولوں کی تلاش میں اڑتی ہے، اور شام کو بغیر کسی نقشے، جی پی ایس یا راستے کی غلطی کے، بالکل سیدھی اپنے گھر واپس لوٹ آتی ہے۔ اسے یہ راستوں کی پہچان کس نے دی؟

کڑوے سے میٹھا سفر: یہ پھولوں کا پھیکا اور کڑوا رس چوستی ہے، اور اپنے اندر کے نظام سے اسے دنیا کے سب سے بہترین، میٹھے اور شفا بخش شہد میں بدل دیتی ہے۔

اس ننھی سی مکھی کا دماغ ایک پن کے سرے جتنا چھوٹا ہے، لیکن اس کی عقل اور صلاحیتیں حیران کن ہیں۔

آئیں مل کر اپنے دل سے ایک چھوٹا سا سوال پوچھیں:

اس ننھی سی جان کے چھوٹے سے دماغ میں ریاضی، انجینئرنگ اور یہ خوبصورت نظم کس نے فٹ کیا؟ وہ عظیم اور پیاری ہستی کون ہے جس نے اسے اتنی محبت سے یہ سب سکھایا؟

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

فطرت کے شاہکار: وہ عظیم ہستی کون ہے؟ (قسط 2)

فطرت کے شاہکار: وہ عظیم ہستی کون ہے؟ (قسط 5)