رشتوں میں "میں" کے بجائے "ہم" کا سفر
آج کی تیز رفتار اور مادی دنیا میں اگر ہم اپنے اردگرد گرتی ہوئی سماجی دیواروں اور ٹوٹتے ہوئے رشتوں کا گہرا مشاہدہ کریں، تو ان کے پیچھے ایک بہت بڑا سبب نظر آتا ہے: "میں" کی دیوار۔ جب کسی بھی رشتے میں اصرار صرف اپنی ذات، اپنی پسند، اپنی انا اور اپنی جیت پر ہونے لگے، تو وہاں سے خلوص رخصت ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
رشتوں کی خوبصورتی اور پائیداری کا راز اس بات میں چھپا ہے کہ ہم کب "میں" کے خول سے نکل کر "ہم" کے دائرے میں داخل ہوتے ہیں۔ "ہم" کا مطلب اپنی ذات کی نفی کرنا نہیں، بلکہ سامنے والے کے وجود، اس کے احساسات اور اس کی رائے کو اپنے برابر جگہ دینا ہے۔ جب دو لوگ مل کر کسی رشتے کی بنیاد رکھتے ہیں، تو وہاں کوئی مقابلہ (Competition) نہیں ہوتا، بلکہ ایک خوبصورت تعاون (Cooperation) ہوتا ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے رشتے مضبوط ہوں، تو ہمیں اپنی گفتگو اور سوچ میں تبدیلی لانی ہوگی:
فیصلے کرتے وقت صرف یہ نہ سوچیں کہ "میری" خوشی کس میں ہے، بلکہ یہ دیکھیں کہ "ہماری" بہتری کس چیز میں ہے۔
رشتوں میں حاکم اور محکوم کا تصور ختم کر کے ایک دوسرے کا سچا رفیق اور ہمسفر بننا ہی اخلاص کی پہلی سیڑھی ہے۔
آئیے آج سے اپنے رشتوں میں "میں جیتوں اور تم ہارو" کے فلسفے کو بدل کر "ہم مل کر جیتیں گے" کا اصول اپنائیں۔ کیونکہ رشتے برابر والوں کے ساتھ مل کر چلنے سے بنتے ہیں، کسی کو پیچھے چھوڑ دینے سے نہیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں