مخلوق سے بے نیازی
سچا سکون تب ملتا ہے جب انسان کے اندر مخلوق سے بے نیازی آ جاتی ہے۔ یہ بے نیازی کوئی غرور نہیں ہے، بلکہ یہ دل کی وہ کیفیت ہے جہاں انسان یہ جان لیتا ہے کہ دنیا کے لوگ نہ تو اسے عزت دے سکتے ہیں اور نہ ہی اس کا نقصان کر سکتے ہیں۔ جب امیدیں انسانوں کے بجائے صرف ایک سچے مالک سے جڑ جاتی ہیں، تو ہمارا دل ایک عجب سے اطمینان سے بھر جاتا ہے۔ پھر کوئی ہمارا ساتھ دے یا چھوڑ جائے، ہمیں فرق نہیں پڑتا کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارا معاملہ کسی انسان کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے رب کے ساتھ ہے۔
مگر مخلوق سے اس بے نیازی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم اپنے پیاروں سے دور ہو جائیں یا ان کے دکھ سکھ سے منہ موڑ لیں۔ اللہ پاک نے ہم سب کو ایک دوسرے کے سہارے اور ضرورت سے جوڑا ہے۔ خوبصورتی تو اس بات میں ہے کہ جب کوئی اپنا ہمارے پاس اپنا دل ہلکا کرنے آئے، اپنی کوئی تکلیف بانٹے، تو ہم اسے رب کی طرف سے بھیجی گئی ایک ذمہ داری اور محبت کا مان سمجھ کر سنیں۔
ہمارے اندر کی بے نیازی صرف ہمارے اپنے دل کے لیے ہونی چاہیے کہ ہم کسی سے بدلے میں کسی صلے یا تعریف کی امید نہ رکھیں، لیکن دوسروں کے لیے ہمارا دل ہمیشہ ایک پرسکون سائے کی طرح کھلا رہے۔ جب ہم بغیر جتائے، صرف محبت اور عاجزی کے ساتھ کسی کا ساتھ دیتے ہیں، تو رشتے بوجھ نہیں بنتے بلکہ ان میں برکت اور ایک سچی خوشی شامل ہو جاتی ہے۔
حقیقی سکون یہ نہیں ہے کہ ہمارے آس پاس کوئی مسئلہ نہ ہو، بلکہ سکون یہ ہے کہ ہم دنیا کے ہر خوف کو پیچھے چھوڑ کر اپنے قدم آگے بڑھاتے جائیں۔ جب ہمارا ہاتھ کائنات کے سب سے مضبوط سہارے نے تھاما ہو، تو پھر راستے کی کوئی دھوپ یا اپنوں کا بدلتا ہوا رویہ ہمیں کبھی تھکا نہیں سکتا۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں