الرَّحْمٰن الرَّحِيم: کائنات پر محیط لازوال رحمت
قرآنِ مجید کی ہر سورت کا آغاز اللّٰہ پاک کے ان دو مبارک ناموں سے ہوتا ہے، الرَّحْمٰن اور الرَّحِيم۔ یہ دونوں نام اللّٰہ پاک کی صفتِ رحمت سے نکلے ہیں، لیکن ان دونوں میں ایک بہت ہی گہرا اور علمی فرق ہے جو ہمیں اپنے رب کی محبت کا یقین دلاتا ہے۔ اللّٰہ پاک نے اپنی رحمت کو کسی ایک دائرے تک محدود نہیں رکھا، بلکہ کائنات کی ہر چھوٹی بڑی چیز کو اپنی اس صفت کے حصار میں لے رکھا ہے۔ ہمارے رب کا یہ سچا اور خوبصورت کلام دیکھیے کہ اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے (سورہ الاعراف: 156)۔
علماء اور مفسرین فرماتے ہیں کہ الرَّحْمٰن وہ ذات ہے جس کی رحمت حد سے زیادہ وسیع ہے، جو ایک جوش مارتے ہوئے سمندر کی طرح کائنات کی ہر مخلوق پر بلا تفریق برس رہی ہے۔ ہم دنیا کے کاموں میں کتنے ہی مگن کیوں نہ ہوں، اللّٰہ پاک کا نظامِ کرم ہمارے لیے ایک پل کو بھی نہیں رکتا۔ ہمیں بن مانگے ہوا، پانی، روشنی اور ہر سیکنڈ زندگی کی نئی سانسیں ملتی ہیں۔ یہ اس کے الرّحمٰن ہونے کا نتیجہ ہے کہ وہ مومن، کافر، انسان، چرند اور پرند، سب کو پال رہا ہے اور اس نے عرشِ عظیم پر مستوی ہو کر اپنی مخلوق کو سنبھالنے کے لیے رحمت کو سب سے مقدم رکھا ہے۔
دوسری طرف الرَّحِيم وہ ذات ہے جس کا کرم کبھی ختم ہونے والا نہیں، جو مسلسل اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ یہ وہ خاص رحمت ہے جو ایمان والوں کے دلوں کو اندر کا سکون دیتی ہے، ان کے ایمان کو سنبھالتی ہے اور مشکل وقت میں ان کے قدموں کو ڈگمگانے نہیں دیتی۔ اللّٰہ پاک اپنے بندے کی ہر چھوٹی سی نیکی کو قبول فرماتا ہے، اس کا اجر بڑھا کر دیتا ہے اور آخرت میں یہی صفتِ رحیمیت مومنوں کے لیے ابدی کامیابی کا ذریعہ بنے گی۔ نبی کریم ﷺ نے اللّٰہ پاک کی اس بے پناہ رحمت کو ایک خوبصورت مثال سے واضح فرمایا کہ اللّٰہ اپنے بندوں پر اس ماں سے بھی زیادہ مہربان ہے جو اپنے بچے کو شدید محبت کی وجہ سے سینے سے لگا لیتی ہے (صحیح بخاری)۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ اللّٰہ پاک کے ان دو عظیم ناموں کی برکت ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائے، تو ہمیں قرآن و حدیث کی روشنی میں کچھ خوبصورت عمل اپنی زندگی میں شامل کرنے ہوں گے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ اس پر رحم نہیں کرتا (صحیح مسلم)۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنے گھر والوں، ماتحتوں اور یہاں تک کہ جانوروں کے ساتھ بھی ہمیشہ نرمی کا معاملہ کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں صلہ رحمی یعنی رشتہ داری کے تعلقات کو جوڑنا ہوگا، کیونکہ اللّٰہ پاک نے رحم کو اپنی صفتِ رحمت ہی سے نکالا ہے اور فرمایا ہے کہ جو رشتوں کو جوڑے گا، اللّٰہ اسے اپنی رحمت سے جوڑے گا۔
ہمیں اپنے معمولات میں وہ قرآنی دعا بھی شامل کرنی چاہیے جس میں سکھایا گیا ہے کہ اے ہمارے رب! ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما اور ہمارے کام میں ہمارے لیے راہِ یاب فرما (سورہ الکہف: 10)۔ جب ہم یہ جان لیتے ہیں کہ ہماری ہر سانس اور ہر نعمت اللّٰہ پاک کی بن مانگے رحمت کی بارش ہے، تو ہمارا دل شکایتوں سے پاک ہو جاتا ہے اور زبان پر ہر حال میں اپنے رب کا شکر جاری ہو جاتا ہے۔
جب ہم اس بے پناہ کرم کو گہرائی سے محسوس کر لیتے ہیں، تو ہمارے اندر دوسروں کے لیے بھی نرمی اور شفقت کا ایک چشمہ ابل پڑتا ہے۔ ہم اپنے اردگرد کی مخلوق کو اسی رحمت کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں جو ہمارے رب نے ہم پر برسائی ہے۔ یوں، اللّٰہ پاک کی اس صفت کا اثر ہمارے اپنے اخلاق کو خوبصورت بنا دیتا ہے اور ہم اسی مہربان رب کے حکم اور اس کی رضا کے مطابق کائنات کے لیے سراپا خیر بن جاتے ہیں۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں