ایسی تنہائی جو نعمت ہے

کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے نا کہ ہم سب کے بیچ ہو کر بھی اندر سے ایک ٹھہراؤ چاہتے ہیں؟ ایسے میں جب کچھ دیر کے لیے موبائل ایک طرف ہو، دنیا کی باتیں تھم جائیں اور صرف مکمل خاموشی ہو... تو وہ لمحہ کتنا انمول لگتا ہے۔ وہ اکیلا پن کوئی اداسی نہیں، بلکہ ایک ایسی نعمت ہے جہاں روح کو سانس لینے کا موقع ملتا ہے۔

ہم اکثر شور و غل میں اتنے کھو جاتے ہیں کہ کائنات کی دھیمی سی سرگوشیاں سن ہی نہیں پاتے۔ لیکن جب ہم اس اکیلے پن کی آغوش میں بیٹھتے ہیں، تو بارش کی بوندوں کا زمین پر گرنا ایک الگ ہی سکون دیتا ہے، اور پرندوں کی چہچہاہٹ دل کو ایک عجیب سے اطمینان سے بھر دیتی ہے۔ یہ تنہائی ہمیں فطرت کے رنگوں کو گہرائی سے دیکھنا اور ان میں اپنے رب کی خوبصورت کاریگری کو محسوس کرنا سکھاتی ہے۔

اس پرسکون وقت میں جب کوئی دوسرا دیکھنے والا نہیں ہوتا، تب انسان اپنے دل کے آئینے میں خود کو بالکل صاف دیکھ پاتا ہے۔ یہ وہ گھڑیاں ہیں جہاں کوئی بناوٹ نہیں ہوتی، کوئی دکھاوا نہیں ہوتا۔ ہم اپنے اکیلے پن میں، اپنے سچے آنسوؤں اور عاجزانہ شکر کے ساتھ، اپنے خالق کے سب سے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ یہ خاموشی دراصل ہمارے اندر ایک نئی توانائی بھر دیتی ہے، جو ہمیں زندگی کے سفر میں دوبارہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے 

یہ تنہائی دنیا سے کٹنا نہیں ہے، بلکہ اپنے وجود کی سچائی اور بندگی کے اصل روپ کو پہچاننے کا ایک بہت ہی خوبصورت اور پرسکون راستہ ہے۔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

شکر کی حقیقت اور قناعت کا راستہ

فطرت کے شاہکار: وہ عظیم ہستی کون ہے؟ (قسط 5)