اَلسَّلَامُ: ہر خوف سے امان دینے والی ذات
ہمارے رب کا یہ سچا اور خوبصورت کلام تو دیکھیے:
اور اللّٰہ سلامتی کے گھر (جنت) کی طرف بلاتا ہے...(سورہ یونس: 25)
سوچیے تو سہی، اللّٰہ پاک کو 'السلام' کیوں کہا جاتا ہے؟ اس لیے کہ وہ خود ہر قسم کے عیب، کمزوری، زوال اور موت سے بالکل پاک اور سلامت ہے۔ اور چونکہ وہ خود سراپا سلامتی ہے، اس لیے وہ اپنی مخلوق پر کبھی ظلم نہیں کرتا۔ اس کا یہ نام ہماری باطنی زندگی کے لیے ایک بہت بڑی حفاظت اور عافیت ہے۔ جب ہم اللّٰہ پاک کے اس نام سے سچا تعلق جوڑتے ہیں، تو ہمارے دلوں سے دنیا کا ہر خوف، ڈپریشن اور نفسیاتی الجھنیں ختم ہو جاتی ہیں، کیونکہ ہمیں یہ کامل یقین ہوتا ہے کہ ہمارا رب ہمیں ہر آفت سے سلامت رکھنے والا ہے۔ وہ ذات جو عرشِ عظیم پر مستوی ہے، اس نے اپنی صفتِ رحمت کو اپنے غصے پر قائم کر رکھا ہے اور وہ اپنے بندوں کے دلوں پر ایسا اطمینان نازل کرتی ہے کہ اندر کی ساری بے چینی ختم ہو جاتی ہے۔
یہ سلامتی جب انسان کے دل سے نکلتی ہے، تو پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ اسی لیے ہم جب بھی ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو السلام علیکم کہتے ہیں، جس کا صاف اور سادہ مطلب یہ ہے کہ میری طرف سے آپ کی جان، مال اور عزت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اللّٰہ کے رسول ﷺ نے بھی یہی فرمایا کہ مسلمان تو ہے ہی وہ جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں۔ اللّٰہ پاک کا یہ دین صرف انسانوں کے لیے ہی نہیں، بلکہ کائنات کے ہر جاندار، درختوں اور پرندوں کے لیے بھی سراپا عافیت ہے۔ یہاں تک کہ میدانِ جنگ میں بھی اسلام بچوں، عورتوں، بوڑھوں اور عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے سے روکتا ہے۔
دنیا کی یہ تمام سلامتی اپنی جگہ، لیکن اللّٰہ پاک کا اصل مقصد ہمیں ایک ایسی ابدی اور ہمیشہ رہنے والی سلامتی دینا ہے جہاں نہ کوئی غم ہوگا، نہ بیماری اور نہ موت۔ اسی لیے جنت کا ایک نام 'دار السلام' یعنی سلامتی کا گھر ہے، جہاں داخل ہوتے وقت فرشتے پکاریں گے کہ
"اس میں سلامتی اور امن کے ساتھ داخل ہو جاؤ"
جب ہم اللّٰہ پاک کی اس صفت کو پہچان لیتے ہیں، تو ہم خود بھی اپنے کردار کو جھوٹ، خیانت اور دھوکے سے سلامت رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس پاک نام کی برکت ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائے، تو ہمیں اپنی عادتوں میں کچھ تبدیلیاں لانی ہوں گی۔ سب سے پہلے تو سلام کرنے میں پہل کو اپنا معمول بنا لیں، چاہے کوئی جان پہچان کا ہو یا اجنبی۔ دوسری بات یہ کہ اپنے اندر درگزر پیدا کریں؛ جب بھی کوئی نادان ہم سے الجھنے کی کوشش کرے، تو بدلہ لینے کے بجائے سلامتی کا راستہ چنیں اور آگے بڑھ جائیں۔ اپنی زبان کو غیبت اور دل آزاری سے بالکل محفوظ رکھیں تاکہ دوسرے ہمارے شر سے سلامت رہیں۔ اور ہر نماز کے بعد اپنے رب سے یہ پیاری اور مستند دعا مانگنے کا معمول بنائیں کہ
اے اللّٰہ! تو ہی سلامتی والا ہے اور تجھی سے سلامتی ملتی ہے، ہمیں دنیا میں بھی سلامت رکھ اور آخرت میں بھی سلامتی والے گھر میں داخل فرما۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں