فطرت کے شاہکار: وہ عظیم ہستی کون ہے؟ (قسط 3)

 کبھی کبھی جب تپتی دھوپ اور گرمی سے سب بے حال ہو رہے ہوتے ہیں، تو اچانک آسمان پر کالی گھٹائیں چھا جاتی ہیں۔ پھر جب بارانِ رحمت برستی ہے، تو صرف زمین ہی نہیں، ہمارا دل اور ذہن بھی ایک عجیب سے سکون اور تازگی سے بھر جاتا ہے۔

اگر ہم بارش کے اس خوبصورت نظام پر ذرا ٹھہر کر غور کریں، تو ہر بوند ہمیں اپنے خالق کی شفقت کا پتہ دیتی ہے۔

جب بارش کی پہلی بوند خشک مٹی پر گرتی ہے، تو ایک سوندھی اور مسحور کن خوشبو ہر طرف پھیل جاتی ہے۔ مٹی کی اس خاموش خوشبو کو ہمارے دل و دماغ کو سکون دینے کا ذریعہ کس نے بنایا؟

اسی طرح پتوں اور چھتوں پر بوندیں گرنے کی ایک مسلسل اور دھیمی آواز پیدا ہوتی ہے۔ سائنس کہتی ہے کہ یہ آواز انسان کے اعصاب اور دماغ کو حیرت انگیز طور پر پرسکون کرتی ہے۔ جو پانی پیاس بجھاتا ہے، اس کے گرنے کی آواز کو ہمارے لیے لوری کس نے بنا دیا؟

پرحیرت فلٹریشن پلانٹ کو دیکھیے؛ سورج کی گرمی سے جب سمندر کا کڑوا اور نمکین پانی بھاپ بن کر اوپر اڑتا ہے، تو نمک نیچے ہی رہ جاتا ہے۔ قدرت اس کڑوے پانی کو اوپر لے جا کر صاف کرتی ہے اور ہمارے لیے بالکل میٹھا اور شفا بخش بنا کر اتارتی ہے۔ یہ زبردست نظام کس نے لگایا؟

ہمیں آسمان پر تیرتے ہوئے بادل روئی کی طرح ہلکے نظر آتے ہیں، لیکن ان کا وزن لاکھوں کلوگرام ہوتا ہے۔ اتنے وزنی پانی کے ذخیرے کو آسمان پر معلق رکھنا اور ہواؤں کے ذریعے انہیں میلوں دور پیاسی زمینوں تک پہنچانا کس کا معجزہ ہے؟

بارش کے بعد جب ہم درختوں کو دیکھتے ہیں، تو لگتا ہے جیسے وہ نہا دھو کر بالکل صاف اور گہرے سبز رنگ میں نکھر گئے ہوں۔ ایک بنجر اور خشک زمین جو بالکل بے جان لگ رہی ہوتی ہے، بوندیں پاتے ہی اس کے اندر چھپے بیج انگڑائی لے کر جاگ اٹھتے ہیں۔

پانی کا یہ پورا سفر اور اس کا نرم بوندوں کی شکل میں برسنا تاکہ زمین اسے جذب کر سکے—یہ سب کوئی اتفاق نہیں ہے۔

آئیں مل کر اپنے دل سے ایک چھوٹا سا سوال پوچھیں:

سمندر کے کڑوے پانی کو میٹھا کرنے والا، ہواؤں کو بادلوں کا مزدور بنانے والا، اور مٹی کی خوشبو سے ہمارے مایوس دلوں کو امید دینے والا کون ہے؟ وہ عظیم اور پیاری ہستی کون ہے جس کی رحمت ہر بوند کی صورت میں ہم پر برستی ہے؟

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

فطرت کے شاہکار: وہ عظیم ہستی کون ہے؟ (قسط 1)

فطرت کے شاہکار: وہ عظیم ہستی کون ہے؟ (قسط 2)

فطرت کے شاہکار: وہ عظیم ہستی کون ہے؟ (قسط 5)