اشاعتیں

Dua Cards / دعا کارڈز

تصویر
 

اَلْعَزِيزُ: حقیقی عزت اور بے پناہ غلبے والی ذات

تصویر
اللّٰہ پاک کا نام اَلْعَزِيزُ ان صفاتی ناموں میں سے ہے جو اس کی عظمت، طاقت اور جلال کو ظاہر کرتے ہیں۔ عربی زبان میں عزیز اس ذات کو کہا جاتا ہے جو سب پر غالب ہو، جسے کبھی مغلوب نہ کیا جا سکے، اور جو اپنی ذات و صفات میں اتنی منفرد ہو کہ کوئی اس کا ہمسر نہ ہو۔ اللّٰہ پاک کے اس نام کا مطلب ہے بے پناہ عزت اور غلبے والا۔ وہ ایسی طاقت کا مالک ہے جس کے سامنے کائنات کی ہر چیز عاجز اور مغلوب ہے، لیکن اس کے غلبے اور طاقت کے ساتھ ظلم نہیں بلکہ سراسر حکمت اور انصاف جڑا ہوا ہے۔ جب ہم اللّٰہ پاک کو العزیز تسلیم کر لیتے ہیں، تو ہمارے دل دنیا کے جھوٹے سہاروں اور عارضی طاقتوں سے بالکل بے خوف ہو جاتے ہیں، کیونکہ ہم یہ جان جاتے ہیں کہ حقیقی عزت اور غلبہ صرف اور صرف اللّٰہ ہی کے پاس ہے۔ قرآنِ مجید میں اللّٰہ پاک کا یہ نام کثرت سے اکیلا بھی اور دوسری صفات کے ساتھ ملا کر بھی ذکر کیا گیا ہے۔ سورہ آل عمران کی آیت 6 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو زبردست غالب اور حکمت والا ہے ۔ یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اللّٰہ پاک کی عزت اور غلبہ کبھی حکمت سے خالی نہیں ہوتا، وہ کائنات کا اتنا بڑا نظام ...

اَلْمُؤْمِنُ: دلوں کو سکون اور امن دینے والی ذات

اللّٰہ پاک کا نام اَلْمُؤْمِنُ ایک نہایت ہی خوبصورت اور صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے، جس کے بنیادی طور پر دو گہرے معنی ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ اپنے سچے بندوں اور پیغمبروں کے ایمان کی تصدیق فرماتا ہے اور قیامت کے دن ان کے اجر کا ضامن ہے۔ دوسرا اور سب سے پیارا معنی "امن و امان دینے والا" ہے، یعنی وہ ذات جو اپنے بندوں کو دنیا کی پریشانیوں اور آخرت کے ہر خوف سے پناہ دیتی ہے۔ جب ہمارا دل کسی بات پر گھبراتا یا بے چین ہوتا ہے، تو اللّٰہ کے اس نام پر یقین ہمیں ایک ایسا سکون فراہم کرتا ہے جو کہیں اور نہیں مل سکتا، کیونکہ کائنات کی سب سے بڑی اور حقیقی طاقت صرف اسی کے پاس ہے۔ قرآنِ مجید میں اس نام کا ذکر سورہ الحشر کی آیت 23 میں کچھ اس طرح آیا ہے کہ وہی اللّٰہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی بادشاہ ہے، وہی پاک ہے، وہی سراسر سلامتی ہے اور وہی امن دینے والا ہے ۔ یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کائنات میں اگر کہیں حقیقی امن اور تحفظ ہے، تو وہ صرف اللّٰہ کی ذات سے مل سکتا ہے، وہی ہے جو اپنی تمام مخلوقات کی نگرانی اور حفاظت فرما رہا ہے۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے بہترین مؤمن کی پہچ...

الرَّحْمٰن الرَّحِيم: کائنات پر محیط لازوال رحمت

تصویر
قرآنِ مجید کی ہر سورت کا آغاز اللّٰہ پاک کے ان دو مبارک ناموں سے ہوتا ہے، الرَّحْمٰن اور الرَّحِيم ۔ یہ دونوں نام اللّٰہ پاک کی صفتِ رحمت سے نکلے ہیں، لیکن ان دونوں میں ایک بہت ہی گہرا اور علمی فرق ہے جو ہمیں اپنے رب کی محبت کا یقین دلاتا ہے۔ اللّٰہ پاک نے اپنی رحمت کو کسی ایک دائرے تک محدود نہیں رکھا، بلکہ کائنات کی ہر چھوٹی بڑی چیز کو اپنی اس صفت کے حصار میں لے رکھا ہے۔ ہمارے رب کا یہ سچا اور خوبصورت کلام دیکھیے کہ اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے (سورہ الاعراف: 156)۔ علماء اور مفسرین فرماتے ہیں کہ الرَّحْمٰن وہ ذات ہے جس کی رحمت حد سے زیادہ وسیع ہے، جو ایک جوش مارتے ہوئے سمندر کی طرح کائنات کی ہر مخلوق پر بلا تفریق برس رہی ہے۔ ہم دنیا کے کاموں میں کتنے ہی مگن کیوں نہ ہوں، اللّٰہ پاک کا نظامِ کرم ہمارے لیے ایک پل کو بھی نہیں رکتا۔ ہمیں بن مانگے ہوا، پانی، روشنی اور ہر سیکنڈ زندگی کی نئی سانسیں ملتی ہیں۔ یہ اس کے الرّحمٰن ہونے کا نتیجہ ہے کہ وہ مومن، کافر، انسان، چرند اور پرند، سب کو پال رہا ہے اور اس نے عرشِ عظیم پر مستوی ہو کر اپنی مخلوق کو سنبھالنے کے لیے رحمت کو سب سے مقد...

اَلسَّلَامُ: ہر خوف سے امان دینے والی ذات

تصویر
جب ہم اپنے اردگرد دنیا کو دیکھتے ہیں، تو ہر طرف کوئی نہ کوئی ٹکراؤ، بے چینی یا خوف نظر آتا ہے۔ ایسے میں اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ سلامتی کا مطلب صرف جنگ کا رک جانا یا خاموشی نہیں ہے، بلکہ یہ زندگی کو اندر اور باہر سے پرسکون بنانے کا ایک پورا نظام ہے۔ اور اس پورے نظام کا اصل مرکز اللّٰہ پاک کا نام اَلسَّلَامُ ہے، جس کا مطلب ہے کہ کائنات میں جہاں کہیں بھی کوئی امن، عافیت اور سلامتی ہے، وہ سب اسی ایک پاک ذات کی طرف سے ہے۔ ہمارے رب کا یہ سچا اور خوبصورت کلام تو دیکھیے : اور اللّٰہ سلامتی کے گھر (جنت) کی طرف بلاتا ہے...(سورہ یونس: 25) سوچیے تو سہی، اللّٰہ پاک کو ' السلام ' کیوں کہا جاتا ہے؟ اس لیے کہ وہ خود ہر قسم کے عیب، کمزوری، زوال اور موت سے بالکل پاک اور سلامت ہے۔ اور چونکہ وہ خود سراپا سلامتی ہے، اس لیے وہ اپنی مخلوق پر کبھی ظلم نہیں کرتا۔ اس کا یہ نام ہماری باطنی زندگی کے لیے ایک بہت بڑی حفاظت اور عافیت ہے۔ جب ہم اللّٰہ پاک کے اس نام سے سچا تعلق جوڑتے ہیں، تو ہمارے دلوں سے دنیا کا ہر خوف، ڈپریشن اور نفسیاتی الجھنیں ختم ہو جاتی ہیں، کیونکہ ہمیں یہ کامل یقین ہوتا ہے کہ ہمارا رب ...

اسمِ ذات اللّٰہ: بندگی اور محبت کا اصل محور

تصویر
کائنات کی ہر تخلیق اپنے وجود کے لیے کسی نہ کسی سبب کی محتاج ہے، لیکن ان سب کا خالق وہ ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، اور اس پاک ذات کا سب سے خاص اور جامع نام اللّٰہ ہے۔ لفظ اللّٰہ کسی صفت سے نہیں بنا، بلکہ یہ اس کا ذاتی نام ہے جو صرف اور صرف اسی کے لیے مخصوص ہے۔ دنیا کے تمام صفاتی نام جیسے رحیم، رازق یا غفور کسی نہ کسی خاص صفت کو ظاہر کرتے ہیں، لیکن لفظ اللّٰہ وہ عظیم نام ہے جس میں کائنات کو سنبھالنے، دلوں کو تھامنے اور مخلوق پر کرم کرنے والی تمام طاقتیں اور صفات بیک وقت سمٹ آتی ہیں۔ ہمارے رب کا یہ سچا اور دلوں میں امید جگانے والا کلام تو دیکھیے کہ بھلا کون ہے جو بے قرار کی پکار سنتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے اور اس کی تکلیف دور کرتا ہے؟ کیا اللّٰہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ بھی ہے (سورہ النمل: 62)۔ علماء اور لغت کے ماہرین فرماتے ہیں کہ لفظ اللّٰہ کا ایک گہرا مفہوم یہ ہے کہ وہ ذات جس کی محبت میں عقلیں حیران رہ جائیں اور جس کی بندگی کے لیے روح ہر لمحہ تڑپتی رہے۔ جب ایک بندہ چاروں طرف سے مایوس ہو کر، اپنی ساری تدبیریں ہار کر، ایک بے قرار اور بے بس حالت میں ہوتا ہے، تب وہ صرف اللّٰہ ہی کی ...

شہ رَگ سے بھی زیادہ قریب

تصویر
کبھی سوچا ہے کہ اللّٰہ رب العالمین کی محبت کا معیار کیا ہے؟ وہ خالقِ کائنات، جو تمام حدوں سے پاک ہے اور جس کی ذاتِ مبارکہ عرشِ عظیم پر مستوی ہے، اس کی بادشاہت اور جلال کی کوئی انتہا نہیں۔ لیکن اس عظمت و کبریائی کے باوجود وہ اپنے بندوں سے کسی دوری پر نہیں۔ وہ تو قرآنِ مجید میں اپنی سب سے خوبصورت اور دلنشین سچائی کا اعلان فرماتا ہے: وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ "اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔" (سورہ ق: 16) اس ایک آیت میں محبت اور اپنائیت کا ایک ایسا سمندر چھپا ہے جو روح کو سرشار کر دیتا ہے۔ شہ رگ تو ہماری حیات کا مرکز ہے، ہماری ہر سانس کے آنے اور جانے کا راستہ ہے—اور ہمارا غفور الرحیم رب فرماتا ہے کہ وہ اس سے بھی زیادہ ہمارے پاس ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جب ہماری آنکھ سے کوئی آنسو ابھی ڈھلکا بھی نہیں ہوتا، وہ اس سے واقف ہوتا ہے۔ جب ہمارے دل میں محبت، خوف یا شکر کا کوئی لطیف سا احساس انگڑائی لیتا ہے، تو وہ اس دھڑکن کو ہم سے پہلے سن رہا ہوتا ہے۔ وہ اللّٰہ جو ستار العیوب ہے، ہماری تمام خطاؤں، خامیوں اور کمزوریوں کو جانتا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ ہم...